پاکستانی مسلم کا پیغام

پاکستانی مسلم کا پیغام


ڈرونرز، خود کش حملہ آوروں ، ٹارگٹ کلرز اور تمام


مسلح جنگجوؤں کے نام

تمہاری وجہ سے میں ہر روز ، جلا ، لہو لہان ہوا ، رویا اور مرا
لیکن میں آج بھی زندہ ہوں ، ہنستا ہوا ، مسکراتا ہوا اور اپنی بقا کے لئے تیار ….
کیا تم جانتے ہو کیوں ؟

یہ بچہ بلوچستان کے ایک دور دراز پشتون گاؤں خان مہتر زئی سے تعلق رکھتا ہے .یہ علاقہ اپنے قدیم ریلوے اسٹیشن جسے ایشیا کے چند بلند ترین اور پاکستان کے سب سے اونچے اسٹیشن میں شمار ہوتا ہے .اس بچہ کو دیکھو اور بتاؤ کہ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم جیت رہے ہو ؟


اسے دیکھو اس کا نام قادیمہ ہے یہ تمہارے خلاف جنگ میں در بدر ہوئی اسے آنکھوں کی سوزش ہے . لیکن یہ دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک اپنی مدد آپ کے تحت اسلام آباد کے نواح میں بنائے گئے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے.کیا تمہارے پاس یہ حوصلہ ہے ؟


تم جو چاہو کر لو لیکن روشنیوں کے شہر کراچی کو اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتے. اپنی طاقتور دوربینیں لگا کر دیکھو …اس محنت کش کی کمر پر لدے رنگین غبارے تمہیں ایک واضح پیغام دیتے نظر آئیں گے

تمہارے خود کش دھماکوں کے بعد زندگی اس طرح نظر آنے لگتی ہے. داد دو میرے حوصلوں کو میں ہر بار دوبارہ تعمیر کرتا ہوں اور اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرتا ہوں

تم نے ہمیں بے گھر کیا ، ہمارے اسکول جلا دیے ، ہماری کتابوں کو پھاڑ دیا لیکن دیکھو ہمیں ہم اپنی کتابیں شیئر کر رہے ہیں دوبارہ اسکول جا رہے ہیں

تم نے ہمیں اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل سے محروم کیا مگر دیکھ لو تم ہر بار کی طرح ناکام رہے ہو

کیا میرے گھر کے پرخچے اڑاتے ہوۓ تمہیں میرے چہرے پر کندہ معصومیت نظر نہیں آئی . کیا تمہارے سینوں میں دل نہیں دھڑکتا ؟ کیا تم نے کبھی بچپن نہیں دیکھا ؟

تم نے میرا بچپن چھینا اور مجھے مزدوری کرنے پر اس وقت مجببور کیا جب میری کھیلنے کی عمر تھی ، جب میں کھلونوں سے کھیلنا چاہتا تھا. لیکن میں اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں

یاد کرو ….یاد کرو کس طرح تم نے مجھے یتیم کیا . کس طرح مجھ سے میرا باپ اس عمر میں چھینا جب مجھے سب سے زیادہ اسکی ضرورت تھی .
کیا تمہارے جدید ترین اور میلوں دور سے سننے اور دیکھنے کے آلات نے میری آہ و فغاں کو سنا ، دیکھا .
آج میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو. کیا ان میں تمہیں کوئی خوف نظر آتا ہے ؟
میرے چہرے کو دیکھو تمہیں میری مسکراہٹ نظر آجائے گی

تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم جیت گئے ہو ؟ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم مجھ سے زیادہ مضبوط ہو؟ . تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم نے مجھے گرا دیا ہے . میری ہمتوں کو توڑ دیا ہے ، میرے فخر و غرور کو توڑ دیا ہے ؟
تم نے مجھے اس جنگ کا ایندھن بنایا جو میری نہیں تھی جسے میں ہر گز لڑنا نہیں چاہتا تھا. تم نے میری ایک غلط تصویر دنیا کو دکھائی . تم نے مجھ سے میرا سب کچھ مجھ سے چھین لیا لیکن آج بھی میرے پاس وہ دولت ہے جسے تم ہر گز نہیں چھین سکتے . میرا صبر ، میرا ضبط اور میرا حوصلہ آج پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے . ہر بار جب میں تمہارے ہاتھوں زخم کھاتا ہوں، میں اپنے اندر نئی طاقت محسوس کرتا ہوں . میں تم سے لڑوں گا اور اپنی فتح تک تم سے لڑتا رہوں گا . دیکھتے ہیں کہ کون جیتتا ہے تمہاری بربریت یا میرا حوصلہ …

(ترجمہ)

آپ اس پوسٹ پر ہونے والے تبصروں کو بذریعہ آر ایس ایس حاصل کرسکتے ہیں اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے تبصرہ کرنے کی آزادی ہے، یا اپنے بلاگ سے ٹریک بیک کریں۔
7 تبصرے
  1. السلام عليکم
    اپنی ڈومين مبارک ہو ۔ اپنی کی کيا بات ہے
    ميں پہلے سب کچھ خود کيا کرتا تھا ۔ کچھ سالوں سے اپنا کام بچوں کے ذمہ لگا ديتا ہوں ۔
    داہنی طرف کے دونوں حاشيئوں ميں فونٹ کا رنگ کالے کی بجائے کوئی اور شوخ رنگ کر ديجئے
    تصوير صرف آخری نظر آ رہی ہے جو بچے کی ہے ۔ باقی نظر نہيں آ رہيں
    اُردو سيارہ ميں ربط بدلنے کيلئے اُردو سيارہ کی انتظاميہ کو لکھيئے يا نيا رکنيت کا فارم پُر کر ديجئے

  2. admin says:

    جناب افتخار اجمل صاحب،
    تشریف آوری کا شکریہ . میں نے پوسٹ اپ ڈیٹ کر دی ہے. فونٹ کے رنگ کی تبدیلی کو تھیم قبول نہیں کر رہی ہے. سیارہ سے متعلق آپکی تجویز پر عمل شروع کر دیا ہے.

  3. محترم جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب۔ اپنی ذاتی ڈومین مبارک ہو۔ انشاء اللہ ہم اپ سے حسب سابق استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔ ڈھیروں نیک خواہشات کت ساتھ۔ محمد سلیم

  4. محترم! ڈاکٹر جواد بھائی!!۔
    ذاتی ڈومین پہ بلاگنگ مبارک ہو۔
    اور تحریر یعنی ترجمہ خیال افروز بھی ہے۔ اور ایمان افروز بھی۔
    اللہ سلامت رکھے۔ خوشیوں سے شاد باد رکھے۔

  5. زبردست جی ۔ اس تھیم کی کیا بات ہے جناب ۔ ہمارے حساب سے تو سٹیون سپیلبرگ کو بھی متاثر ہو جانا چاہیئے ۔
    نئے ڈومین کی مبارکباد بھی قبول فرمائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:-) :-D :-P :-O (H) ;-) :-( :-$ :-S ;-( (Y) (N) :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) (C) (&) (E) (~) (K) (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (U) (W)