ٹیگ – ازم

کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جو بات آپ کے لیے نئی اور انوکھی لگتی ہے ، دوسروں کے لیے ایک عام سی بات اور ایک معمول ہوتا ہے۔ ٹیگ پوسٹ بھی ایک ایسی ہی چیز ہے۔ بلاگستان پر جب کچھ دن پہلے پوسٹ دیکھی تو خاصا متعجب ہوا۔ ابھی تک میں ان ٹیگس سے واقف تھا جن کی مدد سے کسی بھی موضوع پر لکھی گئی تحریر کو ڈھونڈنے میں آسانی رہتی ہے۔ جب بلاگرز کو ایک دوسرے کو نامزد کرتےاور پوسٹ کرتے دیکھا تو ٹیگ پوسٹ سمجھ آئی۔ جسکو ٹیگ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ ٹیگ پوسٹ کرے اور دوسروں کو ٹیگ کرے۔ اس طریقہ کو دیکھ کر جو پہلی چیز ذہن میں آتی ہے وہ ریلے ریس ہے جس میں 4 کھلاڑی ایک دوسرے کو بھگاتے ہیں۔ دوسری مثال اگرچہ مناسب نہیں مگر زیادہ بہتر طور پر منطبق ہوتی ہے اور وہ ہے ائیر بورن وائرل انفیکشن۔۔۔۔۔۔۔

یاروں کے یار، بھائیوں کے بھائی اور بہنوں کے خالہ زاد بھائی برادر عمران اقبال نے اپنی ٹیگ پوسٹ میں مجھے ٹیگ کیا تو مجھ پر لازم ہوگیا کہ میں بھی ایک ٹیگ پوسٹ لکھ ماروں اور جو بھی نام ذہن میں آئے اسے ٹیگ کردوں۔

سوالات اور انکے جوابات:

سوال ۱ : ۲۰۱۲ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟

وہی کرنا چاہتے ہیں جو اب تک کیا ہے۔ یعنی ایسے شخص کی تلاش جس پر میں اپنی ساری پریشانیوں کا بوجھ لاد کر خود چین کی نیند سو سکوں۔ ;-)

سوال ۲ : ۲۰۱۲ میں کس واقعے کا انتظار ہے؟

جواب : دنیا کے خاتمہ کا۔۔۔۔ :-[

سوال ۳ : ۲۰۱۱ میں کوئی کامیابی ؟

جواب: اپنی مینیجمنٹ کو نہایت کامیابی سے ٹوپی کرائی اور اپنی تنخواہ بڑھوائی۔ (H) (Y) (H)

سوال ۴ : سال ۲۰۱۱ کی کوئی ناکامی ؟

جواب: آم گھٹلیوں کے دام خریدنے کی کوشش میں شدید ناکامی ہوئی۔ تب پتا چلا کہ آج کے بھولے اتنے بھی بھولے نہین کہ جتنے نظر آتے ہیں۔ :-$

سوال ۵ : سال ۲۰۱۱ کی کوئی ایسی بات جو بہت دلچسپ اور یادگا ہو؟

جواب : دلچسپ بہت ہیں مگر یادگار نہیں۔۔۔۔۔ البتہ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۱ کو ایسی بات ہوئی ہے جو اب دوبارہ نہیں ہوسکے گی۔ یعنی عمر عزیز چالیس کا ہندسہ عبور کر گئی ہے (O)

سوال ۶ : سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

جواب: سال کا آخری دن میری سالگرہ کا دن ہوتا ہے اس لیے بہت اداس۔۔۔۔۔ :-(

سوال ۷ : کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہیں؟

جواب: مذاق برطرف، میں ۲۰۱۲ میں بات کرنے کی تمیز سیکھنا چاہتا ہوں۔ (W)

لیجیے جناب ۔۔۔نہایت معقول سوالات کے انتہائی نا معقول جواب دے دیے گئے ہیں۔ اب میری باری ہے۔ میں ان لوگوں کو ٹیگ کر رہا ہوں جو بلاگستان سے طویل عرصہ سے کسی نا کسی لحاظ سے غیر حاضر ہیں۔ میں پیارے بلاگر دوست وقار اعظم ، محترم جناب جاوید گوندل صاحب ، جنکی طویل غیر حاضری اب کھلنے لگی ہے، جناب محترم سعید پالن پوری صاحب کہ جنہوں نے کچھ ہی دن پہلے میری تفریح لی ہے اور محترمہ عنیقہ ناز کو جنکی بلاگستان میں غیر موجودگی ایسی ہی ہے جیسے کھانے میں مرچ کا نا ہونا ، ٹیگ کرتا ہوں۔

آپ اس پوسٹ پر ہونے والے تبصروں کو بذریعہ آر ایس ایس حاصل کرسکتے ہیں اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے تبصرہ کرنے کی آزادی ہے، یا اپنے بلاگ سے ٹریک بیک کریں۔
17 تبصرے
  1. :-D
    کھانے میں نمک لازمی ہوتا ہے۔۔۔۔۔
    :-D

    • admin says:

      یاسر بھائی ، کراچی کے کھانوں میں مرچ لازمی ہوتی ہے ۔
      عنیقہ ناز صاحبہ کی پوسٹ تھائی مرچ سے کم نہیں ہوتیں۔ جب بھی پڑھتا ہوں دماغ سوں سوں کرنے لگ جاتا ہے۔۔ انکو میری تجویز ہے کہ بلاگ کا نام شوخیءتحریر سے بدل کر تیکھی تحریر رکھ دیں۔ مگر یہ بات انکے بلاگ پر کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔

  2. MD-NOOR says:

    ” مگر یہ بات انکے بلاگ پر کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے ” :-D ۔۔۔
    بلاگ پر آپکے تبصرہ سے مُجھے خوشی حاصل ہوئی (یہ رسمی جملہ نہیں ہے) کہ آپکی شخصیت ورائٹی والی ہے ۔مزاح اور موسیقی بھی آپکی شخصیت کا خاصا ہے ۔کئی لوگوں میں یہ ورائٹی نہیں ہوتی ۔ جنکے مطالعہ میں ورائٹی زیادہ ہوتی ہے انکی شخصیت میں بھی زیادہ ورائٹی آجاتی ہے ۔اب کچھ فلسفہ بگار لیتے ہیں۔۔۔ہاں تو جب ہم دُنیا کی چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ دُنیا کی ہر چیز میں ورائٹی پائی جاتی ہے ۔ کیا آپکی نظر میں کوئی ایسی بیماری ہے کہ جس میں ورائٹی نہ پائی جاتی ہو ۔۔۔کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ مذاہب میں فرقے بھی نیچرلی ہیں ،ناگزیر ہیں ، مذہب کی ورائٹی ہیں اسے قبول کرنا چاہئیے ، لیکن جب قُرآنی تعلیمات پر نظر جاتی ہے تو خالق کا یہ پیغام ملتاہے کہ فرقے نہ بناؤ ۔۔۔اور جب فرقہ پرستی پر نظر جاتی ہے تو خالق کے پیغام کی حکمت سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں نے اپنے ہم مذہبوں کو خون میں نہلا دیے اور نہلاتے جارہے ہیں ۔۔۔مجھے تو آبنائے ہرمز کا پانی فرقہ پرستی کے خون سے آلودہ ہوتا نظر آتا ہے ۔۔۔ علماء کو چاہئیے کہ اپنی ” انا” کو سمندر برد کرکے فرقہ پرستی کی ورائٹی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ ۔رہی مذہب میں نیچرلی ،ناگزیر ورائٹی کی بات تو ورائٹی مختلف مذاہب کی صورت میں موجود ہوگی ۔۔۔یا پھر علماء ایک دوسرے کے فرقہ کو قبول کرنے کی تلقین کریں تاکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا خون نہ بہائے ۔۔ ۔اپنے دل کی باتیں آپ سے شیئر کیں اب اجازت دیں آپکا بہت شُکریہ ۔۔۔( ایم ۔ڈی)

    • admin says:

      جناب ایم ڈی نور صاحب،
      اسلام ، یہودیت اور نصرانیت کی طرح کا دین نہیں کہ جس کی آسمانی کتاب میں ان گنت تحاریف ہوگئی ہوں ،جس کے ماننے والے صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہوں اور جس میں صحیح اور غلط کا فیصلہ ہی نا ممکن ہو گیا ہو.
      نہیں جناب، اللہ سبحانہ تعالی کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آج بھی محفوظ ہے . ہر وہ شخص جو کسی بھی قول و فعل کی تائید میں قرآن و سنت سے دلیل لاتا ہے (قطع نظر اس سے کہ وہ دلیل صحیح ہے یا غلط) اسکی تکفیر یا اس نفرت کا اظہار نہیں کیا جاسکتا.ہاں بحث ضرور کی جاسکتی … اس بحث میں بہت سارے لوگ اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں.جس سے خرابیاں پیدا ہوئی ہیں. ورنہ فرقہ پرستی کوئی ایسا بھی لاعلاج مرض نہیں.
      ورائٹی اس خاکسار میں منتشرالخیالی کی وجہ سے ہے یہاں تو جیک ان آل ٹریڈ ،ماسٹر ان نن والا معاملہ ہے.
      موسیقی کے معاملہ میں جناب دھوکہ کھا گئے ہیں. :-D میرے تبصرہ کو دوبارہ پڑہیے گا… (W)

  3. حجاب says:

    سالگرہ مبارک جناب ، اور میری طرح سب کو ۲۱ دسمبر دنیا کے خاتمے کا کیوں انتظار ہے بھئی ۔۔۔۔

    • admin says:

      شکریہ حجاب….. دنیا کے خاتمہ والی بات مذاق میں کہی گئی ہے…سب لوگ کر رہے ہیں تو میں نے سوچا میں بھی یہ بات کردوں…آخر فیشن باتوں کا بھی تو ہوتا ہے نا..

  4. سعید says:

    سالگرہ مبارک ڈاکٹر صاحب۔ اللہ تعالی اعمال صالحہ سے بھر پور لمبی زندگی عطا فرمائیں۔ جوابات پڑھ کر اچھا لگا۔اس کو بھی ٹیگ کر ڈالا جس کا اپنا ٹھکانہ نہیں۔
    اجی تفریح کہاں فدوی تو استفادہ کرتا ہے

  5. اللہ عمر دراز مع خوشحالی و اطمينان عطا کرے ۔ اب ماشاء اللہ آپ سمجھدار عمر ميں داخل ہو گئے ہيں

    • admin says:

      بہت بہت شکریہ افتخار اجمل صاحب…. دعاؤں کی مجھے ہمیشہ سے ضرورت اور طلب رہتی ہے.
      اللہ تعالیٰ آپکو جسمانی اور ایمانی صحت سے مالا مال کرے اور زندگی میں سکون ،فراغت اور ہلکے پن کے عناصر غالب کردے.

  6. admin says:

    حضرت محترم جناب ایم ڈی صاحب،
    میں ان بہت سارے لوگوں میں سے ہوں جو تبصروں کی ایڈیٹنگ پر بالکل یقین نہیں رکھتے. آج میں نے نیٹ جمعہ کی نماز کے بعد کھولا ہے اس لیے آپکے تبصرے دیر میں شایع ہوئے ہیں جسکے لیے معذرت ….اطمینان رکھیے یہاں پر آپ اگر مجھے گالی بھی دیں گے تو میں من و عن چھاپ دوں گا. میں صرف دو صورتوں میں ایڈیٹنگ کرتا ہوں. ایک قابل احترام مشاہیر اور ابطال اسلام کی کردار کشی اور دوسرے کسی دوسرے بلاگر کے بارے میں کہی گئی نازیبا بات.

  7. یاروں کے یار، بھائیوں کے بھائی اور بہنوں کے خالہ زاد بھائی برادر عمران اقبال…!!!
    یہ ٹھیک رہا… بچا گئے جناب… بہنوں کے خالہ زاد بھائی یعنی کزن… چلیں کوئی صورت تو پھر بھی نکل ہی آتی ہے… :-D :-D :-D
    ڈاکٹر صاحب… آپ ماشاءاللہ سمارٹ نکلے کہ مینیجمنٹ سے تنخواہ بڑھوا لی… میں تو اپنی تمام ترین سمارٹ نیس کے باوجود اڑھائی سال تک اپنی تنخواہ نہیں بڑھوا پایا… تو ثابت یہ ہوا کہ میرا مینیجر مجھ سے زیادہ سمارٹ نکلا…
    مزید یہ کہ ایک عدد نوا نکور انگریزی محاورہ سننے کو ملا… کہ:
    Forty is NEW Thirty… (L) (L) (L)
    تو کہیں کیا خیال ہے۔۔۔ نوجوانی مبارک ہو جناب۔۔۔۔ اللہ آپ کو اگلے مزید دس سال نوجوان رکھے۔۔۔ اور پھر جوانی طویل ترین کرے۔۔۔ آمین۔۔۔ (Y) (Y) (Y)
    اور حضرت کوئی ایسا بکرہ ملے جس پر اپنی ساری پریشانیاں سوار کر کے سکون سے سو سکیں تو مجھے بھی ضرور اطلاع دیجیے گا۔۔۔ میں وہ بکرہ آپ سے کرائے پر لینا چاہوں گا کچھ عرصے کے لیے۔۔۔ ;-) ;-) ;-)

  8. ارے واہ حضرت آپ نے تو کمال کردیا تنخواہ بڑھوالی. عمررفتہ سے ایک سال اور کم ہونے کی مبارکباد بھی قبول کیجیے. ;-)

  9. admin says:

    عمران بھائی،
    وقار بھائی،
    میرا تو یقین سو سنار کی تو ایک لوہار کی والے محاورے پر ہے اور یہ اب تک کی ساری عملی زندگی کا نچوڑ ہے کہ مینیجمینٹ کو کبھی نا کبھی آپکی شدید ضرورت پڑتی ہے آپکا کام یہ ہے کہ انکے خوف کو ایکسپلائٹ کریں اور اپنا کام نکلوانے کے لیے شیر بن جائین. اس میں کوئی استادی اور ہوشیاری نہیں ہے بس صبر کی ضرورت پڑتی ہے.
    Forty is NEW Thirty؟؟؟
    جب بچیاں آپکو انکل کہہ کر مخاطب کرنے لگیں تو دل اس قسم کی باتوں سے نہیں بہلتا…. ;-(

  10. السلام علیکم “بھائی”! آپ کے اس شعر کے بعد آپ کی عمر کے ہر شخص کو بھائی کہنے کو من کرتا ہے۔
    ہمارے ایک استاد محترم فرماتے تھے اور انکل افتخار احمد بھی یہی بات کہہ چکے ہیں کہ چالیس کے پیٹے میں عقل پوری ہوجاتی ہے۔ ہمارے استاد جی جب چالیس کے ہوگئے تو کہتے تھے کہ سینے میں اتنے علوم چھپائے رہا اور کوئی کتاب نہ لکھی، صرف اس کا انتظار تھا کہ پہلے چالیس کا ہوجاؤں۔ آپ کی کتاب کب آرہی ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:-) :-D :-P :-O (H) ;-) :-( :-$ :-S ;-( (Y) (N) :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) (C) (&) (E) (~) (K) (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (U) (W)